بنگلورو۔21؍نومبر(ایس او نیوز) بلگاوی کے سورنا سودھا میں آج سے شروع ہوئے دس روز ہ ریاستی لیجسلیچر اجلاس کیلئے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے غیر معمولی حفاظتی بندوبست کیا گیا ہے۔ بنگلور ، ممبئی قومی شاہراہ پر موجود سورنا سودھا میں داخل ہونے والی ہر گاڑی کیلئے سیکورٹی پاس لازمی قرار دیا گیا ہے، ساتھ ہی اس میں داخل ہونے والی ہر گاڑی اور ہر فرد کی تلاشی لے کر اندر داخل ہونے دیاجارہاہے۔بجز وزراء اور اراکین اسمبلی اور کونسل کی گاڑیوں کے کسی گاڑی کو بغیر تلاشی کے داخل ہونے نہیں دیاجارہاہے۔ سورنا سودھا کے اہم داخلی دروازے سے تقریباً ایک کلو میٹر کی دوری پر موجود عمارت تک پہنچنے تک دو تین جگہ سیکورٹی جانچ کی چوکیاں قائم کی گئی ہیں۔ کسانوں ، کنڑا نواز تنظیموں اور دیگر مختلف اداروں اور انجمنوں کی طرف سے سورنا سودھا میں گھسنے کے اعلان کو دیکھتے ہوئے یہ حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ سورنا سودھا کے اہم داخلی گیٹ کے پاس احتیاطی طور پر آنسو گیس کے گولے داغنے والی گاڑی اور واٹر جیٹ کھڑی کی گئی ہے۔ جن لوگوں کے پاس سورنا سودھا میں داخلے کا پاس موجود نہیں انہیں عمارت سے ایک کلومیٹر دورہی گاڑیوں سے اتارا جارہاہے۔ مہادائی مسئلہ پر احتجاج ، گنے کے کاشتکاروں کے احتجاج اور شمالی کرناٹک کے دیگر اہم سلگتے ہوئے مسائل کو لے کر احتجاج کرنے والے افراد کیلئے سورنا ودھان سودھا سے دیڑھ کلومیٹر دور احتجاج کیلئے خصوصی پنڈال قائم کئے گئے ہیں۔ پولیس نے احتجاجی طور پر سورنا ودھان سودھا کے اطراف آج سے 2؍ دستمبر تک امتناعی احکامات لاگو کردئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے ان احکامات کی پامالی کرنے والوں کو گرفتار کرنے پولیس کو ہدایت دی ہے۔ سورنا ودھان سودھا کے اطراف واکناف کسی بھی طرح کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے اس کیلئے بھی سخت احتیاط برتی گئی ہے۔ ودھان سودھا کی حفاظت کیلئے بنگلور کے ودھان سودھا میں متعین تربیت یافتہ پولیس جوانوں کو سورنا سودھا میں مامور کیا گیا ہے۔